🌸 *|[ پریشانیوں اور مصائب کا علاج ]|*
🏼 مصیبت اور پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ الله کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہاں صبر سے روزہ بھی مراد لیا ہے اور رسول الله ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ ﷺ کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو خود بھی نماز میں مشغول ہوتے اور اپنے اہل بیت - عليهم السلام - کو بھی اس کی دعوت دیتے تھے۔
🏼 اور صبر کسے کہتے ہیں یہ بھی رسول الله ﷺ کی زبانی سنیے۔ سيدنا انس بن مالك - رضي الله عنه - کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کا ایک عورت پر گزر ہوا جو ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے اسے فرمایا ’’الله سے ڈرو اور صبر کرو۔‘‘ وہ کہنے لگی۔ ’’جاؤ اپنا کام کرو تمہیں مجھ جیسی مصیبت تو پیش نہیں آئی۔‘‘ وہ عورت آپ ﷺ کو پہچانتی نہ تھی۔ اسے لوگوں نے بتایا کہ وہ تو نبی ﷺ تھے۔
🏼 چناچہ وہ آپ ﷺ کے دروازے پر حاضر ہوئی۔ وہاں کوئی دربان موجود نہ تھا۔ وہ اندر جا کر کہنے لگی۔ ’’میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا (میں صبر کرتی ہوں) آپ ﷺ نے فرمایا : صبر تو اس وقت کرنا چاہیے جب صدمہ شروع ہو۔‘‘ (بخاری، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور)
📝 *|[ مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمه الله تعالى || تيسير القرآن : ٧٢/١ || البقرة : ٤٥ ]|*
No comments:
Post a Comment